جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 14:25
عراق میں آیت اللہ العظمیٰ بشیر حسین نجفی کے وکلا و معتمدین کا بارہواں سالانہ اجلاس

حوزہ/ نجف اشرف میں آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی کے مرکزی دفتر کے شعبۂ وکلا و معتمدین عراق کے زیر اہتمام وکلا و معتمدین کی بارہویں سالانہ کانفرنس نجف اشرف میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت آیت اللہ العظمی بشیر نجفی کے فرزند اور مرکزی دفتر کے مدیر، حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ علی نجفی نے کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نجف اشرف میں آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی کے مرکزی دفتر کے شعبۂ وکلا و معتمدین عراق کے زیر اہتمام وکلا و معتمدین کی بارہویں سالانہ کانفرنس نجف اشرف میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت آیت اللہ العظمی بشیر نجفی کے فرزند اور مرکزی دفتر کے مدیر، حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ علی نجفی نے کی۔

یہ کانفرنس ’’اہل بیت علیہم السلام کے منہج کے مطابق شعور کی آبیاری؛ تاکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور مستقبل کی تعمیر کا محرک بنایا جا سکے‘‘ کے عنوان سے حرم امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے صحن حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام میں منعقد ہوئی

کانفرنس میں حضرت آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی کے متعدد وکلا اور معتمدین نے شرکت کی، جو عراق کے مختلف شہروں اور صوبوں سے نجف اشرف پہنچے تھے۔ شرکاء میں شمالی عراق کے شہر موصل سے لے کر جنوبی شہر بصرہ تک کے نمائندگان شامل تھے۔

کانفرنس کا بنیادی مقصد مرکزی دفتر، وکلا اور معتمدین کے درمیان مسلسل رابطے اور باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانا، عراق کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق علمی، تبلیغی اور سماجی امور کا جائزہ لینا اور مستقبل کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل مرتب کرنا تھا۔

اس موقع پر صدیقۂ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کی شہادت کی دوسری روایت کے مطابق 13 جمادی الاول کے موقع پر منعقد ہونے والے سالانہ جلوسِ عزاءِ فاطمیہ کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ یہ جلوس مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمی بشیر نجفی کی موجودگی میں ہر سال مرکزی دفتر سے امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے روضۂ اقدس تک نکالا جاتا ہے اور اہل بیت علیہم السلام سے وفاداری اور ان کے بابرکت منہج پر ثابت قدمی کے اظہار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

کانفرنس میں اہم امور پر گفتگو

کانفرنس میں مرکزی دفتر، وکلا اور مبلغین کے درمیان براہِ راست ملاقات، مسلسل مشاورت اور مؤثر رابطے کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاکہ مشترکہ نقطۂ نظر اور بہتر ہم آہنگی کے ساتھ دینی و سماجی ذمہ داریاں انجام دی جا سکیں۔

شرکاء نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرمان «العالم بزمانه لا تهجم عليه اللوابس» کی روشنی میں زمانے کے حالات، فکری و ثقافتی تبدیلیوں اور معاشرتی ضروریات کو سمجھنے کی اہمیت پر بھی گفتگو کی۔

وکلا و معتمدین کو محض انتظامی نمائندے نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں مرجعیت کی دینی اور تبلیغی ذمہ داریوں کے براہِ راست نمائندے قرار دیتے ہوئے دینی شعور، اخلاقی اقدار اور معاشرتی آگاہی کے فروغ میں ان کے کردار پر زور دیا گیا۔

کانفرنس میں خطے میں ہونے والی تیز رفتار جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں، عراق کی داخلی صورتِ حال اور ملک کے سیاسی و اقتصادی حالات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

نوجوان نسل کے حوالے سے ڈیجیٹل میڈیا اور تیزی سے بدلتے ہوئے ثقافتی ماحول کے پیش نظر دینی پیغام رسانی کے جدید اور مؤثر طریقے اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ علما اور مبلغین کے لیے نوجوانوں کی فکری و دینی تربیت اور رہنمائی میں فعال کردار ادا کرنے کو اہم قرار دیا گیا۔

اسی طرح حسینی مواکب اور ہیئات کے ذریعے نوجوانوں کی توانائیوں کو دینی و اعتقادی تربیت اور اہل بیت علیہم السلام سے وابستگی کے فروغ کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت پر بھی تاکید کی گئی۔

عراقی قبائل اور ان کے سربراہان کے ساتھ مسلسل اور براہِ راست رابطے کے ذریعے شرعی مفاہیم کو مضبوط بنانے اور دین سے متصادم بعض رسومات کے مقابلے کی ضرورت پر بھی گفتگو ہوئی۔

خاندان کو درپیش فکری اور ابلاغی چیلنجز کے تناظر میں مسلم خواتین کے لیے باوقار، تربیتی اور رہنمائی پر مبنی دینی خطاب کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

حوزوی و علمی سرگرمیوں کو مزید منظم کرنے اور عراق کے مختلف صوبوں میں دینی مدارس اور حوزات علمیہ کی حمایت جاری رکھنے پر بھی تاکید کی گئی۔

فکری چیلنجز کا مقابلہ علم و شعور سے

شیخ عادل الزرکانی نے موجودہ فکری اور معاشرتی چیلنجز کا مقابلہ فکر، علم، شعور، صبر، ثابت قدمی اور حکمت کے ذریعے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالم دین کا کردار صرف معلومات پہنچانے تک محدود نہیں، بلکہ اسے معاشرے میں شعور بیدار کرنے، دینی و اخلاقی اقدار کی حفاظت اور حالات کے درست ادراک میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

کانفرنس میں فکری انحرافات کا مقابلہ مضبوط اور گہری فکری بنیادوں کی تشکیل کے ذریعے کرنے، جبکہ شکوک و شبہات کا جواب دینے کے لیے سوالات سے خوف کے بجائے علمی اور مدلل انداز اختیار کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

آخر میں تبلیغی، علمی اور سماجی سرگرمیوں کو مزید فعال رکھنے، معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ رابطہ مضبوط کرنے، دینی مناسبتوں کے لیے بروقت عملی تیاری کرنے اور مؤمنین و عراقی معاشرے کی خدمت میں وکلا و معتمدین کے کردار کو مزید مؤثر بنانے پر تاکید کی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha